دُبئی میں ایک اور بھارتی شخص نے مذہب اسلام کی توہین کر ڈالی
ایک معروف فرم کا ملازم راکیش بی
کٹو مارتھ ملازمت سے نکالے جانے کے بعد امارات میں رُوپوش ہو گیا، پولیس کی جانب
سے ملازم کی تلاش جاری ہے
دُبئی گزشتہ کچھ روز سے دُبئی میں
مقیم چند بھارتی ہندو افراد کی جانب سے سوشل میڈیا پراسلام اور مسلمانوں کی توہین پر
مبنی پوسٹ لگانے کے شرمناک واقعات میں تیزی آ گئی ہے۔معروف مالیاتی فرم کے اعلیٰ
عہدے دار متیش اُدیشی کی جانب سے بھارت میں تبلیغی جماعت کے کارکنوں کو دہشت
گردوں سے زیادہ خطرناک اور کورونا پھیلانے والے جہادی قرار دیا گیا ۔
تو دوسری جانب Future Vision Events & Weddingsکے ڈائریکٹر سمیت بھنڈاری نامی ہندو
شہری کی جانب سے نوکری مانگنے والے مسلمان شمشاد عالم کو ”پاکستان دفع ہو جاؤ“ کا
واٹس ایپ پیغام کیا گیا۔ دُبئی میں ایک اور بھارتی شہری کی جانب سے اسلام کے خلاف توہین
آمیز پوسٹ لگانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ گلف نیوز کے مطابق راکیش بی کٹومارتھ
معروف فرم ایمرل سروسز میں ٹیم لیڈر کے طور پر ذمہ داریاں نبھا رہا ہے۔
بھارتی ریاست کرناٹک سے تعلق رکھنے والے
راکیش نے چند روز قبل اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے مذہب اسلام کے بارے
میں ہرزہ سرائی پر مبنی ایک پوسٹ لگائی جس پر اماراتی عوام اور مسلمان تارکین وطن کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔
اپنی فیس بک پوسٹ میں کٹومارتھ نے کورونا وائرس کے حوالے سے مسلمانوں کے بارے
میں شرمناک کلمات کہے تھے۔ کچھ صارفین نے اس کی اسلام مخالف پوسٹ کا سکرین شاٹ لے
کر اسے شیئر کیا اور پولیس سے مطالبہ کیا کہ اس متعصب شخص کو
فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔https://youtu.be/jhmGLxcS1aw
صارفین نے راکیش کی فرم ایمرل سے بھی
مطالبہ کیا کہ متعصب ذہنیت رکھنے والے راکیش کو فوری طور پر نوکری سے فارغ کیا
جائے۔ یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد ایمرل سروسز کی جانب سے راکیش کو فوری طور پر
نوکری سے ہٹا دیا گیا۔ تاہم راکیش پکڑے جانے کے خوف سے امارات میں ہی رُوپوش ہو
گیا ہے جس کی گرفتاری کے لیے پولیس چھاپے مار رہی ہے۔ ایمرل سروسز کے چیف
ایگزیکٹو آفیسر سٹوارٹ ہیریسن کا کہنا تھا کہ راکیش کو فرم نے فوری طور پر ملازمت سے نکال دیا ہے۔
کیونکہ ہماری فرم نے مذہبی منافرت کے حوالے
سے زیرو ٹالرینس کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ ہماری فرم میں ہر مذہب، قوم اور نسل کے
افراد کو خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ اپنے ملازمین کے لیے بھی ہم نے سوشل میڈیا کے حوالے سے قواعد و ضوابط مقرر کر
رکھے ہیں۔ نوکری سے برخاست کیے جانے کے بعد اس کا کوئی پتا نہیں چل رہا۔ اگر ہمیں
اس کے بارے میں کچھ معلومات حاصل ہوئیں تو فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی جائے گی۔ واضح رہے کہ
اماراتی سائبر کرائم کے تحت راکیش کٹومارتھ کو مجرم ثابت ہونے کی صورت میں قید اور
جرمانے کی سزا بھُگتنا ہو گی اور اسے ڈی پورٹ بھی کر دیا جائے گا۔
Comments
Post a Comment
ALWAYS WELCOME TO OUR DAILY PAGE VISITOR.
ALSO SEARCH OUR YOUTUBE CHANEL "HUQ TV".